کابل میں دو صدر اور "طالبان" انتظار میں

کابل میں دو صدر اور "طالبان" انتظار میں

امریکہ کی طرف سے افغانستان سے اپنی افواج کو کم کرنا شروع
منگل, 10 March, 2020 - 12:15
افتتاحی تقریب میں اشرف غنی اور ان کے حریف عبد اللہ عبد اللہ کو دیکھا جا سکتا ہے (رائٹرز)
کابل - لندن: «الشرق الاوسط»
گزشتہ روز افغانستان کے دار الحکومت کابل میں دو الگ الگ تقریبات دیکھنے میں آئے ہیں جن کے دوران اشرف غنی اور ان کے سب سے ممتاز حریف عبد اللہ عبد اللہ نے خود کو ملک کا صدر مقرر کیا ہے اور اس دوران دو دھماکوں کی بھی خبر ملی ہے۔
ایک طرف صدر غنی اور ایگزیکٹو اتھارٹی کے چیئرمین عبد اللہ کے مابین ہونے والی اقتدار کی جدوجہد کی وجہ سے افغانستان میں جمہوریت داؤ پر لگی ہے تو دوسری طرف امریکی ذرائع نے گزشتہ روز  اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن میں "طالبان" تحریک کے ساتھ ہونے والے حتمی معاہدہ کے مطابق ملک سے امریکی افواج کے انخلا کے آغاز  شروع ہو گیا ہے اور ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ امریکی انتظامیہ افغانستان میں افواج کو 13 ہزار فوجیوں سے کم کرکے 8 ہزآر کرنے کے اپنے منصوبوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔(۔۔۔)
منگل 15 رجب المرجب 1441 ہجرى - 10 مارچ 2020ء شماره نمبر [15078]

انتخاباتِ مدير

ملٹی میڈیا